یہ عمومی معلومات ہیں جن پر اپنے ڈاکٹر سے بات کریں، یہ تشخیص نہیں ہے۔ اگر آپ کا جانور بیمار ہے تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
پاکستان کی گرم آب و ہوا میں پیٹ کے کیڑے، چچڑیاں اور پسو عام ہیں۔ کچھ کیڑے بچوں میں منتقل ہو سکتے ہیں، اور چچڑیاں کتوں میں خون کی سنگین بیماریاں پھیلاتی ہیں۔ باقاعدہ بچاؤ آسان ہے اور علاج سے کہیں سستا۔ یہ عمومی رہنمائی ہے؛ اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ کون سی دوا اور کتنی مقدار آپ کے جانور کے لیے ٹھیک ہے، اور ہمیشہ جانور کے موجودہ وزن کے مطابق خوراک دیں۔
کیڑے مار دوا کا شیڈول
| عمر | کتنی بار | نوٹ |
|---|---|---|
| 2 سے 12 ہفتے (پلّے اور بلی کے بچے) | ہر 2 ہفتے بعد | بلی کے بچوں میں عموماً 3 ہفتے کی عمر سے شروع |
| 3 سے 6 مہینے | ہر مہینے | |
| بالغ | ہر 3 مہینے بعد | ہر مہینے، اگر وہ شکار کرتے ہوں، کچا گوشت کھاتے ہوں، چھوٹے بچوں کے ساتھ رہتے ہوں یا باہر گھومتے ہوں |
| حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں | ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق | کچھ کیڑے مار دوائیں حمل میں محفوظ نہیں |
نئے جانور کو گھر آتے ہی اور پہلی ویکسین سے پہلے کیڑے مار دوا دیں۔ اگر آپ کے جانور کو پسو ہیں تو غالباً اسے فیتہ کیڑا (ٹیپ ورم) بھی ہے، اس لیے دونوں کا علاج کریں۔
پاکستان میں چچڑیاں اور پسو
چچڑیاں اور پسو تقریباً مارچ سے اکتوبر تک، گرم اور مرطوب مہینوں میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں، لیکن کئی شہروں میں سارا سال رہتے ہیں۔ پاکستان میں کتوں کی چچڑیاں بابیسیوسس اور ایرلیکیوسس پھیلا سکتی ہیں، جو خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کرتی ہیں اور جان لیوا ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر کتوں کے لیے ڈاکٹر سارا سال ہر مہینے بچاؤ کی دوا تجویز کرتے ہیں، یا کم از کم پورے گرم موسم میں۔
- ہر سیر کے بعد کتے کو چیک کریں: کان، انگلیوں کے بیچ، گردن اور پٹے کے نیچے۔
- چچڑی نکالنے کے لیے باریک چمٹی سے اسے جلد کے قریب سے پکڑیں اور آہستہ سے سیدھا باہر کھینچیں۔ اسے جلائیں نہیں اور اس کا جسم نہ دبائیں۔
- گھر کے تمام جانوروں کا علاج ایک ساتھ کریں، اور ان کا بستر گرم پانی میں دھوئیں۔
دوا کا انتخاب
- چبانے والی گولیاں (ہر مہینے یا ہر 3 مہینے بعد): دینا آسان، اور نہانے سے نہیں دھلتیں۔
- اسپاٹ آن قطرے گردن کے پچھلے حصے پر: ہر مہینے؛ لگانے سے 2 دن پہلے اور 2 دن بعد تک نہلانے سے پرہیز کریں۔
- پٹے (کالر): دیر تک چلتے ہیں، لیکن گلے پر ٹھیک سے فٹ ہونے چاہییں اور جانور کے سائز کے مطابق ہوں۔
- اسپرے اور شیمپو: جو آج موجود ہیں انہیں مارتے ہیں، لیکن اگلی چچڑیوں اور پسوؤں سے نہیں بچاتے۔
کلینک یا قابلِ اعتماد دکان سے خریدیں: جعلی اور ایکسپائر دوائیں ایک حقیقی مسئلہ ہیں۔
کتوں کی چچڑی کی دوا بلیوں پر کبھی استعمال نہ کریں
کب ڈاکٹر کو دکھائیں
- چچڑیوں کے بعد مسوڑھے ہلکے یا سفید پڑ جانا، کمزوری، کھانا چھوڑ دینا، بخار یا سرخی مائل بھورا پیشاب۔
- پاخانے یا الٹی میں کیڑے، پلّے یا بلی کے بچے کا پیٹ پھولا ہونا، یا وزن کم ہونا۔
- مسلسل کھجلی، بال جھڑنا یا زخم۔
عام سوالات
مجھے اپنے کتے یا بلی کو کتنی بار کیڑے مار دوا دینی چاہیے؟
پلّوں اور بلی کے بچوں کو 12 ہفتے کی عمر تک ہر 2 ہفتے بعد، پھر 6 مہینے کی عمر تک ہر مہینے، اور بالغ جانوروں کو ہر 3 مہینے بعد۔ اگر آپ کا جانور شکار کرتا ہو، کچا گوشت کھاتا ہو، باہر گھومتا ہو یا چھوٹے بچوں کے ساتھ رہتا ہو تو ہر مہینے دیں۔
پاکستان میں چچڑیاں کب سب سے زیادہ ہوتی ہیں؟
تقریباً مارچ سے اکتوبر تک، گرم اور مرطوب مہینوں میں، لیکن کئی شہروں میں چچڑیاں سارا سال رہتی ہیں۔ زیادہ تر ڈاکٹر کتوں کے لیے سارا سال ہر مہینے چچڑی سے بچاؤ کی دوا تجویز کرتے ہیں۔
کیا میں اپنے کتے کی چچڑی کی دوا بلی پر استعمال کر سکتا ہوں؟
نہیں۔ کتوں کی بہت سی دواؤں میں پرمیتھرین ہوتی ہے، جو بلیوں کے لیے زہر ہے۔ صرف بلیوں کے لیے بنی دوا، بلی کے وزن کے مطابق مقدار میں استعمال کریں۔
پاکستان میں چچڑیاں کتوں میں کون سی بیماریاں پھیلاتی ہیں؟
زیادہ تر بابیسیوسس اور ایرلیکیوسس، جو خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کرتی ہیں۔ علامات میں مسوڑھے ہلکے یا سفید پڑ جانا، کمزوری، بخار اور کھانا چھوڑ دینا شامل ہیں؛ جلد ڈاکٹر کو دکھائیں۔
اپنے جانور کے بارے میں ڈاکٹر سے بات کریں
تصدیق شدہ ڈاکٹر سے کلینک میں یا ویڈیو کال پر معائنہ بک کریں۔ کوئی پیشگی ادائیگی نہیں؛ کلینک واٹس ایپ پر تصدیق کرتا ہے۔